Thread Rating:
  • 0 Vote(s) - 0 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
Zara Sochiye!
#1
ایک بادشاہ نے کسی شہری کی کسی بات پر خوش ہو کر اسے یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ھو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔
یہ سن کر وہ شخص چلا پڑا ۔ چلتے چلتے ظہر ھو گئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاھئے ،مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں،، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنیجاگیر میں شامل کر لینا چاھئے۔
الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا ۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ھے۔ وہ جتنا تیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھا ھے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پِگلنا شروع ھو گیا ھے۔
وہ شخص دوڑنا شروع ھو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نطر آ رھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچکو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ھو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رھا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھا تھا -
آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے اسٹارٹنگ پوائنٹ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رھے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا-
جس جگہ وہ گرا تھا اسی جگہ اس کی قبر بنائیگئی اور قبر پر کتبہ لگایا گیا، جس پر لکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
"اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اس کی قبر ھے"
اللہ پاک نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ھے ۔ ۔ والعصر ،،ان الانسان لفی خسر،،
ہمارے دائرے بہت بڑے ھوگئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "انا للہ وانا الیہ راجعون"
چلئے واپسی کی سوچ سوچتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ رب تک یہ دائرہ مکمل ھو گیا تو ، جنت و نعیم ، اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
راستے میں کہیں شام ھو گئی تو . . . . . . . .خسر الدنیاوالآخرہ
اپنی خرابیوں کا ہے مختصر فسانہ
اقوال عارفانہ اعمال احمقانہ
Reply
#2
<!-- sSmile --><img src="{SMILIES_PATH}/1.gif" alt="Smile" title="Happy" /><!-- sSmile --> beshk chulbula chnd gz ki zameen he chahiye insaaan ko...
Reply
#3
ایک عالِم نے ایک بُڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھ کر فرمایا.. " اے بُڑھیا! ساری عُمر چرخہ ہی
کاتا ھے یا کچھ اپنے خدا کی بھی پہچان کی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ "
بُڑھیا نے جواب دیا ۔۔۔۔ بیٹا مَیں نے تمہاری طرح موٹی موٹی کتابیں تو نہیں پڑھیں مگر ۔۔۔۔۔ " سب کچھ اِسی چرخہ میں دیکھ لیا.. "
فرمایا.. " بڑی بی! یہ تو بتاؤ کہ خدا موجود ھے یا نہیں..? "
بُڑھیا نے جواب دیا.. " ہاں ۔۔۔۔۔۔ ہر گھڑی اور رات دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر وقت ایک زبردست خدا موجود ھے.. "
عالِم نے فرمایا.. " مگر اس کی کوئی دلیل بھی ھے تمہارے پاس ..? "
بُڑھیا بولی.. " دلیل ھے ۔۔۔۔۔ یہ میرا چرخہ.. "
عالِم نے پوچھا.. " یہ معمولی سا چرغہ کیسے..? "
وہ بولی ۔۔۔۔۔۔۔ " وہ ایسے کہ جب تک مَیں اس چرخہ کو چلاتی رہتی ہُوں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ برابر چلتا
رہتا ھے ۔۔۔۔۔ اور جب مَیں اسے چھوڑ دیتی ہُوں ۔۔۔۔۔۔ تب یہ ٹھہر جاتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جب اس
چھوٹے سے چرخہ کو ہر وقت چلانے والے کی لازماً ضرورت ھے ۔۔۔۔۔۔۔ تو اِتنی بڑی کائنات یعنی زمین و آسمان ، چاند ، سورج کے اتنے بڑے چرخوں کو کس طرح چلانے والے کی ضرورت نہ ہو گی ۔۔۔۔۔۔ ؟
پس جس طرح میرے کاٹھ کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح زمین و آسمان
کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہیے ۔۔۔۔۔۔ جب تک وہ چلاتا رہے گا ۔۔۔۔۔۔ یہ سب چرخے چلتے
رہیں گے ۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ چھوڑ دے گا ۔۔۔۔۔۔ تو یہ ٹھہر جائیں گے ۔۔۔۔۔۔ مگر ہم نے کبھی زمین
و آسمان ، چاند سورج کو ٹھہرے ہوئے نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جان لیا کہ ان کا چلانے والا ہر گھڑی موجود ھے.. "
عالم نے سوال کیا.. " اچھا یہ بتاؤ کہ آسمان و زمین کا چرخہ چلانے والا ایک ھے یا
دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ "
بُڑھیا نے جواب دیا.. " ایک ھے اور اس دعویٰ کی دلیل بھی یہی میرا چرخہ ھے ۔۔۔۔۔۔ کیوں
کہ جب اس چرخہ کو مَیں اپنی مرضی سے ایک طرف کو چلاتی ہُوں ۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ چرخہ میری
مرضی سے ایک ہی طرف کو چلتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی دوسرا چلانے والا ہوتا ۔۔۔۔۔۔ تب تو
چرخہ کی رفتار تیز یا آہستہ ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔ اور اس چرخہ کی رفتار میں فرق آنے سے مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہوتا ۔۔۔۔۔ یعنی اگر کوئی دوسرا صریحاً میری مرضی کے خلاف اور میرے چلانے کی مخالف جہتپر چلاتا ۔۔۔۔۔ تو یہ چرخہ چلتے چلتے ٹھہر جاتا ۔۔۔۔۔۔مگر ایسا کبھی نہیں ہُوا.. اس وجہ سے کہ کوئیدُوسرا چلانا والا ھے ہی نہیں ۔۔۔۔۔ اسی طرح آسمان و زمین کا چلانے والا اگر کوئی دُوسرا خدا ہوتا ۔۔۔۔۔۔ تو ضرور آسمانی چرخہ کی رفتار تیز ہو کر دن رات کے نظام میں فرق آ جاتا ۔۔۔۔۔۔ یا چلنے سے ٹھہر جاتا ۔۔۔۔۔ یا ٹوٹ جاتا ۔۔۔۔ جب ایسا نہیں ھے تو پھر ضرور آسمان و زمین کے چرخہ کو چلانے والا ایک ہی خدا ھے..!! "
ماخوذ از " سیرت الصالحین ص:٣ "
اپنی خرابیوں کا ہے مختصر فسانہ
اقوال عارفانہ اعمال احمقانہ
Reply
#4
uuummm acha hy....
Reply
#5
مسکراہٹ
کچھ لوگ گلاب کی طرح ہوتے ہیں بالکل ترو تازہ۔
ہر پل مسکراتے، خوشیاں بکھیرتے مگر پھر ہمارے سخت لہجے یا کڑوےالفاظ ان کی مسکراہٹ چھین لیتے ہیں۔
وہ ہمارے الفاظ اور لہجے کی گرمی نہیں سہہ پاتے اور گلاب کے پھول کی طرح مرجھا جاتے ہیں۔
رنگ ماند پڑ جاتے ہیں، تازگی ختم ہوجاتی ہے۔
مگر پھر بھی ان کا احساس، ان کی باتیں ہمارے ارد گرد ہمیشہ رہتی ہیں۔
گلاب کی خوشبو کی طرح۔
اپنے ارد گرد کا جائزہ لیجئے۔
کہیں کوئی تازہ گلاب مرجھا نہ جائے۔
کسی کی مسکراہٹ آپ کی ایک جھڑکی کی نظر نہ ہو جائے۔
کیونکہ کھلنے میں وقت لگتا ہے مگر مرجھانے کے لئے چند پل بھی کافی ہوتے ہیں۔ !
خوشیاں بانٹیں اور مسکراہٹیں تقسیم کریں آپ کی دی ہوئی ایک مسکراہٹ کسی کے لئے زندگی کی امید بن سکتی ہے۔
اپنی خرابیوں کا ہے مختصر فسانہ
اقوال عارفانہ اعمال احمقانہ
Reply
#6
ummm sahii ...
Reply


Forum Jump:


Users browsing this thread: 1 Guest(s)